بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی انقلاب کے رہبرِ معظم، آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے 33 ویں قومی 'نماز کانفرنس' کے نام اپنے پیغام میں فرمایا: 'اقامۂ نماز' (نماز کی ترویج) کے عظیم الشان مسئلے پر توجہ کا ارتکاز ــ اور خاص طور پر نماز کانفرنس کا انعقاد ـ ان اہم اور ضروری اقدامات میں سے ہے جو ملک میں 1990 کی دہائی کے اوائل سے جاری ہیں۔ یہ سب کچھ ایک مجاہد اور عوام دوست عالمِ دین، علوم قرآن کے استاد اور ماہر مبلغ، حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی (دامت برکاتہ) کی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔

پیغام کا متن حسبِ ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
'اقامۂ نماز' (نماز کی ترویج) کے عظیم الشان مسئلے پر توجہ کا ارتکاز ــ اور خاص طور پر نماز کانفرنس کا انعقاد ـ ان اہم اور ضروری اقدامات میں سے ہے جو ملک میں 1990 کی دہائی کے اوائل سے جاری ہیں۔ یہ سب کچھ ایک مجاہد اور عوام دوست عالمِ دین، علوم قرآن کے استاد اور ماہر مبلغ، حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی (دامت برکاتہ) کی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔
اس امر پر رہبرِ شہیدِ عظیم الشان (اعلی اللہ مقامہ) کی خصوصی توجہ ـ نیز گذشتہ بتیس کانفرنسوں کے حوالے سے آپ کے پیغامات میں موجود اہم، مسلسل اور پرزور ہدایات ـ اس مشن کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔
بلاشبہ نماز کے بارے میں بات کرنا یا لکھنا، اللہ کی طرف کی وحی اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ائمہ معصومین (علیہم الصلاۃ والسلام) کے کلمات کے شایانِ شان اور ان کے ہم پلہ ہے، اور راقم جیسے لوگوں کا قلم اس سے کہیں چھوٹا ہے کہ نماز کے معارف کی گہرائی کے بارے میں کچھ لکھ سکے۔ لیکن اسلامی معاشرے کی شناخت اور اس کے تقاضے اور ـ خصوصاً انقلاب اسلامی کی قیادت سمیت اس [نماز] کے خادموں کی ذمہ داریاں، ـ تقاضا کرتی ہیں کہ اس لحاظ سے، میں اپنے لئے اور تمام عوام اور ذمہ داروں کے لئے چند جملے یاد دہانی کے طور پر لکھ دوں۔
نماز حضرت حق جلّ وعلا کی خوبصورت ترین، بڑی، نعمتوں میں سے ایک ہے، دین کا بلندترین ادارہ اور دین کی علامت اور ستون، اور ہم میں سے ہر ایک کے لئے اللہ کے لامحدود اور لازوال سرچشمے سے قریبی اور براہِ راست اتصال [اور رابطے] کا ذریعہ ہے۔ یہ فلاح و رستگاری [و نجات] کی اکسیر اور حیات طیبہ کا رکن [و ستون] ہے، جو ایک طرف انسان کے لئے نفس کے شیطان اور دنیاوی شیاطین کے خلاف جدوجہد میں، مضبوط اور مسلسل سہارا اور نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے، اور دوسری طرف عشق و محبت، امید، مہربانی اور سکون کا ابلتا ہؤا چشمہ ہے، اور اقامۂ نماز اور استغفار [طلبِ مغفرت] سے اللہ کی برکات کا نزول اور رزقِ الٰہی کی فراوانی حاصل ہوتی اور بڑھتی ہے۔
اور ہاں! نماز کا فریضہ محض ایک فردی ذمہ داری نہیں ہے، اور قرآنی تعلیمات کے مطابق نماز قائم کرنا حکومتِ صالحین کا پہلا ثمرہ اور نشانی ہے:
"الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ؛
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کرتے ہیں۔" (سورہ حج، آیت 51)
سورۂ مبارکہ حج میں اللہ تعالیٰ کے دوستوں اور ان کے جہاد کے بارے میں، نصرتِ الٰہی کے وعدے کے کے عین بعد کی اس آیت کا بیان واضح کرتا ہے کہ اقامۂ نماز [یا نماز قائم و رائج کرنا]، اللہ کے ذکر اور اس پر امید و بھروسے کی مضبوط بنیاد کے طور پر، جہاد اور میدانِ جنگ میں فتح و ظفر میں ـ خصوصاً اس میدان میں جو آج ملت ایران کو درپیش ہے ـ خاص کردار ادا کرتا ہے۔
آج جبکہ عزیز ملت ایران کے لیے مُکنت (استطاعت و اہلیت) اور طاقت [کے حصول] کی شرط [و صلاحیت] پہلے سے کہیں زیادہ فراہم ہو چکی ہے، مبعوث شدہ ملت کا ہر فرد نماز قائم کرنے کے اس بار بار دیئے گئے الٰہی حکم "اَقیموا الصَّلاة" کے کے مخاطَبین ہیں: اس کے علاوہ، نماز کے اہتمام کے حوالے سے، معاشرے میں اثر و رسوخ رکھنے والے تمام افراد، والدین، ماؤں اور خاندانوں سے لے کر اساتذہ اور دوستوں تک، پروفیسروں اور دانشمندوں سے لے کر مشہور شخصیات اور نامور ہستیوں تک، ـ نیز مساجد، نماز جمعہ، اسکولوں، یونیورسٹیوں، حوزات علمیہ، ریڈیو اور ٹیلی وژن سمیت تمام ثقافت ساز ادارے اور ثقافتی اور سماجی کارکنان، اور عوامی بسیج، خصوصاً ان لوگوں پر، ـ جو نوعمر بچوں اور نوجوانوں کے طبقے کے ساتھ رابطے میں ہیں، ـ اس معاملے میں دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اقامۂ نماز [کی تحریک] نے اپنے تمام تکمیلی مراحل اور ارتقائی سطحوں میں، ـ ایسے 'معاشرے اور ملک کی وسعتوں میں'، جو خالص محمدیؐ اسلام کا پرچم بلند کئے ہوئے ہے اور جسے اسلام کی حکمرانی کا فخر و اعزاز حاصل ہے، ـ انتہائی اہم امور میں شامل ہے، اور اسلامی تحریک اور انقلاب کے مرحلے سے لے کر اسلامی معاشرے کے قیام کے مرحلے تک سفر کے لئے ماحول فراہم کرنے کے لئے ایک ضروری امر ہے؛ اور اس کے بعد ہی اسلامی تہذیب کے قیام کے مرحلے تک پہنچنا ممکن ہوگا۔
[معاشرے میں] نماز کا قائم ہونا اور اس کا ہمہ گیر اور عام ہونا، اور بعدازاں اسے خوبصورت طریقے سے ادا کرنے کے لئے عوامی کوشش، اس اہم مقصد تک پہنچنے کی کوشش کی راہ کی دو اہم بنیادیں ہیں، اور مساجد کی تعمیر اور نمازِ جماعت اور جمعہ کی کمیت میں اضافے اور ان کی ظاہری کیفیت بلند کرنے کے دیگر انتظامات، اس اہم منزل تک پہنچنے کے لئے ضروری تمہیدات ہیں۔ ان تمام معاملات میں، ائمۂ جمعہ و جماعات کا کردار بہت نمایاں ہے، جنہیں عوام کی پناہ گاہ اور ان کے دکھ سننے اور قبول کرنے والے کان ہونا چاہئے۔
مجھے امید ہے کہ اللہ کے تفضلات اور ہمارے سرور (عَجَّلَ اللہُ تَعَالَیٰ فَرَجَہُ الشَّرِیفَ) کی خصوصی دعاؤں کی برکت سے، ہماری عزیز قوم و ملت قیامِ نماز اور اللہ کے فیوضات و برکت سے فیضاب ہونے میں، کامیاب و کامران ہو۔
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ اای
9 مہر 1405 ہجری قمری
یکم اکتوبر 2026ع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ